Articles by "بین الاقوامی"
Showing posts with label بین الاقوامی. Show all posts



امریکا کتنا طاقتور ہے ؟ امریکا کی طاقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ دنیا کا ایک ملک بھی ایسا نہیں جس کی زمین پر یہ جس کی سرحد پر امریکی فوجی اڈہ یا اس کا بہری بیڑا نہ کھڑا ہوا ہو۔ امریکا کے دنیا بھر میں اپنی زمین سے باہر 800 فوجی اڈے ہیں جبکہ امریکہ کے بعد دنیا کی تین بڑی طاقتوں روس فرانس اور برطانیہ ان تینوں کے کل ملا کر 30 فوجی اڈے ہیں اس سے امریکہ کے لمبے اور مضبوط بازوؤں کا پتہ چلتا ہے ۔امریکی فوجی بجٹ 611 ارب ڈالر کا ہے ۔یہ دفاعی بجٹ امریکہ کے بعد بڑی طاقتوں چین روس فرانس برطانیہ سعودی عرب انڈیا جرنی ان تمام کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ آج کل کی دنیا میں ایئرکرافٹ کیریئر کو بہت بڑی جنگی طاقت مانا جاتا ہے۔ اکیلے امریکہ کے پاس 11 ایئر کرافٹ کیریئرزہیں۔ جبکہ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقتوں روس ،چین ،فرانس، برطانیہ ان سب کے پاس دو سے زیادہ ایئر کرافٹ کیرئیر نہیں ہیں ۔ امریکہ کا سیاسی اثر و رسوخ بھی دنیا میں بہت زیادہ ہے۔ وہ اس طرح کہ اقوام متحدہ کے سب سے طاقتور باڈی سلامتی کونسل میں امریکہ کے پاس ویٹو پاور ہے۔ دنیا میں تین بڑے ادارے اقوام متحدہ ،نیٹو فورسز اور ورلڈ بینک امریکی امداد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے اس لیے یہ تینوں ادارے امریکہ کے اثر میں ہوتے ہیں۔ ان تینوں باتوں کے علاوہ امریکہ دنیا کے بڑے حصے میں اپنی ضرورت کے مطابق فوجی اور معاشی امداد دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ ممالک اور یہ جغرافیے اس کے سیاسی اثر میں رہتے ہیں ۔علمی اور تحقیقی لحاظ سے بھی دیکھیں تو امریکہ پوری دنیا میں سب سے آگے ہیں۔ دنیا کی ٹاپ 20 یونیورسٹیز میں سے سترہ امریکہ میں ہیں ۔ "سیلیکون ویلی" ہیں وہ جگہ جہاں ٹیکنالوجی جنم لیتی ہے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں دنیا کے بہترین دماغ علم حاصل کرنے تجربہ حاصل کرنے یا پیسے کی تلاش میں آتے ہیں یا دنیا کے بہترین دماغوں کو یہاں اچھے پیکجز پر لایا جاتا ہے۔ فیسبوک ،گوگل ،ایپل اور مائیکروسافٹ جیسے بڑے بڑے ادارے سلیکون ویلی میں موجود ہیں۔ معاشی لحاظ سے دیکھیں تو امریکی معیشت اٹھارہ اعشاریہ ستاون ٹریلین ڈالر کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے ۔امریکہ کے بعد چھین کا نمبر ہے لیکن چینی معیشت کا حجم امریکہ سے سات ٹریلین ڈالر کم ہے ۔معادنی لحاظ سے بھی امریکہ اسطرح مالا مال ہے کہ دنیا کا سب سے زیادہ اور بہترین کوئلہ امریکی زمین میں پایا جاتا ہے ۔ اور تیل کے دسویں نمبر پر سب سے زیادہ ذخائر بھی امریکی زمین میں موجود ہیں۔ امریکا دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی بناتا ہے اور مہنگی ترین پروڈکٹس تیار کرتا ہے۔ اس لیے امریکہ کا ٹریڈپروفائل فرسٹ ورلڈ کا ہے جبکہ اس کے مدمقابل جو ممالک ہیں روس اور چین ان کا ٹریڈ پروفائل تھررڈ ورلڈ کا ہے۔ امریکہ کی طاقت اس کی کامیاب اور سب سے قدیم جمہوریت ہے جس میں تقریبا دور صدیوں سے کوئی تبدیلی نہیں آیا یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ادارے خود مختار اور مضبوط ہوتے گئے۔ مختصر یہ کہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ لیکن اپنے سُپر پاور سٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لئے امریکہ کو مسلسل اپنی ایکسپورٹس بڑھانا ہوتی ہیں۔ ایکسپورٹس مسلسل بڑھانے کے لئے امریکہ کو اپنی مصنوعات میں مسلسل جدد لانا ہوتی ہے۔ یہ جدد لانے کے لئے اُسے دنیا کے بہترین دماغ چاہیے۔ اس سارے تسلسل میں سے اگر ایک گھڑی بھی کم ہوجائے تو امریکہ کا سپر پاور سٹیٹس خطرے میں پڑ سکتا ہے


ترکی کتناطاقتور ہے ؟ اسلامی دنیا میں اگر کوئی ایک ملک امریکی بالادستی کو چیلنج کرتا ہے تو وہ ترکی ہے اس کی ایک مثال حال ہی میں دیکھنے میں آئی جب امریکہ نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا عمل شروع کیا تو ترکی نے اسرائیل سے ڈپلومیٹک ریلیشنز توڑ دیے ۔ترکی کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں لیکن پھر بھی اس کا شمار دنیا کی بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے آخر ترک قوم کی طاقت کیا ہے اور ترکی کتنا طاقتور ہے ہم دیکھتے ہیں اِس ویڈیو میں ۔ ویسے تو ترکی کا رقبہ پاکستان سے کم ہے اس رقبے میں موجود پانی اور آبادی بھی پاکستان سے تھوڑی ہے لیکن اس کے باوجود ترکی کی سب سے بڑی قوت اس کا جغرافیاہی ہے وہ یوں کہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکی دونوں براعظموں کا دروازہ بن چکا ہے اس جیوگرافی کی اتنی اہمیت ہے کہ امریکہ اور روس دونوں چاہتے ہیں کہ ترکی ان کے کیمپ میں رہے اور ترکی اپنی اس اہمیت کو بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتا ہے لیکن یہی جغرافیہ ترکی کی کمزوری بھی ہےکیونکہ ہر سال ایشیا سے یورپ جانے کے خواہش مند لاکھوں لوگوں کا ایک سیلاب ترکی میں آجاتا ہے جو ترقی کے لیے بڑا معاشی چیلنج کھڑا کر دیتا ہے یورپ سمجھتا ہے کہ ترکی ایسے تارکین وطن کو روکے گا جبکہ ترکی کے لیے انہیں روکنا اپنے ملک میں ٹھہرانا یا واپس بھیجنا تینوں کام ہی درد سر بن جاتے ہیں۔ 2015 میں ایلان کردی کی ترک ساحل سے ملنے والی لاش نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا ترکی یورپی یونین کا رکن بننا چاہتا ہے لیکن اس کا جغرافیہ ہیں اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ یورپی یونین کے شہری بغیر ویزے کے سارے یورپ میں گھوم سکتے ہیں اگر ترکی یورپی یونین کا رکن بنتا ہے تو ہر سال ایشیا سے آنے والے لاکھوں تارکین وطن بھی باآسانی یورپ میں چلے جائیں گے اس لیے ترکی کی سر توڑ کوشش کے باوجود یورپی یونین ا سے اپنا رکن بنانے سے انکاری ہے۔ معاشی لحاظ سے دیکھیں تو ترکی 863 ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کے سترویں بڑی معاشی طاقت ہے ترک معیشت میں سیاحت ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ہر سال دنیا بھر سے ستر لاکھ سیاح یہاں آتے ہیں اس کے علاوہ ترقی میں گاڑیوں الیکٹرونکس اور ٹیکسٹائل کے صنعت نے بھی بہت ترقی کی ہے فوجی میدان میں ترکی کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے ترکی دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ہے جبکہ پاکستان تیرویں بھارت چوتھی اور چین تیسری بڑی فوجی طاقت ہیں۔ نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے کوئی ملک ترکی کے فوجی مفادات کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا سکتا ایسا کرنے کی صورت میں اسے مغربی فوجی اتحاد نیٹو سےبھی جنگ کرنا پڑے گی نیٹو اتحاد میں امریکہ کے بعد سب سے بڑی فوج ترکی کی ہی ہیں جس کی تعداد چار لاکھ دس ہزار ہے ترکی کے پاس ایک ہزار اٹھارہ لڑاکا طیارےہیں ۔ ترکی امریکہ کے تعاون سے ایف سکسٹین مینفیکچر بھی کرتا ہے جبکہ نیٹو کا رکن ہونے کے ناطے اسے ریڈار کی نظروں سے بچ کر اڑنے والے امریکی ایف 35 طیارے بھی ملیں گے ۔لیکن اس کے لیے امریکہ ترکی تعلقات میں آئی خرابی کو بھی ٹھیک کرنا ہوگا ۔امریکی دباؤ کے باوجود ترکی نیٹو کا واحد رکن ملک ہے ۔جو روس سے جدید میزائل ڈیفنس سسٹم خرید رہاہے ۔ترکی کو اپنے جغرافیے اور اسلامی ممالک میں اہمیت کی وجہ سے وسیع سیاسی قوت بھی حاصل ہیں۔ جب امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو ترکی کے صدر طیب اردگان نے اسلامی ممالک کا اجلاس بلاکر بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا ۔ترکی کے اس اقدام نے مسلمانوں کے دل جیت لیے تھے۔ تاہم جدید فوج اور معاشی طاقت کے باوجود ترکی تیزی سے مسائل کا شکار بھی ہو رہا ہے جن میں دو مسائل بہت بڑے ہیں ۔پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ ترکی کی کرد اقلیت نے آزادی کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ ان کردوں نے اب ترکی کی سرحد کے ساتھ شام اور عراق میں بھی اپنے فوجی اڈے قائم کر لیے ہیں ۔ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شام کے شمالی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے ۔اور عراق میں بھی اس کی فوج داخل ہوچکی ہیں ۔اسی فوجی مداخلت کی وجہ سے ترکی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ترکی کا دوسرا بڑا مسئلہ یورپی یونین اور امریکا سے خراب تعلقات ہیں۔یورپی یونین کو کردوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں پر ترکی سے شکایت ہے۔ لیکن امریکہ سے ترکی کے اختلافات کی وجہ سے زیادہ سنگین نوعیت کی ہے۔ 2016 میں جب ترک عوام نے فوجی بغاوت کو ناکام بنایا ۔تو اس سازش کا الزام ترکی نے فتح اللہ گولن پر لگایا تھا ۔فتح اللہ گولن اُس وقت امریکہ میں بیٹھے تھے۔ ترکی کے مطالبے کے باوجود امریکہ نے فتح اللہ غولن کو ترقی کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔یہ الزام بھی سامنے آیا کہ ترکی میں امریکی فضائی اڈا بھی فوجی بغاوت میں استعمال ہوا ہے۔ ان واقعات کے بعد ترکی نے امریکی کیمپ سے ہٹ کر روس سے تعلقات بڑھانا شروع کر دیئے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ترکی تیزی سے روس اور ایران کے قریب آ رہا ہے پاکستان اور قطر سے بھی اس کے بہترین تعلقات ہیں تاہم شام ایران اسرائیل سعودی عرب اور امریکہ سے اس کے تعلقات کافی حد تک کشیدہ ہوچکے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو ترکی اپنی بہترین جغرافیائی پوزیشن معاشی ترقی نیٹو کی ر کنیت اور فوجی طاقت کی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقت ہے ۔تاہم کردوں کی بغاوت امریکہ اور یورپ سے مسلسل کشیدہ تعلقات اور ہمسایہ ممالک کے بگڑتی صورتحال نے ترکی کے لئے بڑے چیلنچ پیدا کر دیے ہیں ۔


اسلام علیکم علیکم دوستو 
یہ دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے قدرتی مناظر ہوں یا ان میں چھپے حقائق سب کو دیکھ اور سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ہمیں جا بجا قدرت پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے انسان چاہے جتنی بھی ترقی کر لے لیکن قدرت کے ان شاہکاروں کے آگے اس کی طاقت کم پڑ جاتی ہے اور یہی وجہ انسا ن کو ایسے عجائبات کی کھوج میں لگائے رکھتے ہیں جس سے وہ نا واقف ہے ۔ دوستوں آج کا ہمارا پر ٹاپک بھی آپ کو انہی عجائبات سے گزارتے ہوئے دنیا کے اس پر اسرار مقام پر لے جائے گا جسے ایمازون فارسٹ یا ایمزونیاں اور ایمازون جنگل کہتے ہیں جنوبی امریکہ میں ایمزون تاس پر محیط ایک برساتی جنگل ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگل ہے جو دریائے ایمزون اور اس کے معاون دریاؤں کےگرد پھیلا ہوا ہے اس کا رقبہ 25 لاکھ مربع میل یعنی تقریبا پورے آسٹریلیا کے برابر ہیں اور اس کے دریا کا نظارہ 208 میل کی دوری سے بھی دیکھا جاسکتا ہے خواتین و حضرات اس جنگل کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں 400 سے 500 قبائل کا بسیرا ہے جن میں سے پچاس ایسے قبائل ہیں جن کا باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ انسانی دنیا سے ناواقف ہیں۔ یہ لوگ تیر کمان سے مچھلی کا شکار کرتے ہیں اور بندروں کو اپنی غذا بناتے ہیں اس کے علاوہ یہاں کی زرخیز آب و ہوا میں عجیب و غریب قسم کے جانور پائے جاتے ہیں کہا یہ جاتا ہے کہ ایمازون کی مکڑیاں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ پرندے پکڑ لیتی ہیں اس کے علاوہ ان جنگلات میں سب سے بڑی تبدیلیاں اور اس کے علاوہ دنیا کے تمام پرندوں کی آدھی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ اس جنگل میں 1300 پرندوں 40000 پودوں اور 3000 مچھلیوں کی اقسام کے علاوہ جہاں چارسو تین قسم کے میملز اور 5.2 ملین حشرات الارض پائے جاتے ہیں ہیں اس کے علاوہ ایمزون کو حیرت انگیز اور خوفناک مخلوق کا گھر بھی کہا جاتا ہے جس میں الیکٹرک خونی جانور زہریلے مینڈک اور زہریلے سانپ یعنی اینا کونڈا وغیرہ شامل ہیں۔ دوستو اینا کونڈا سانپ جنوبی امریکہ میں پایا جانے والا ایک طرح سے اس دنیا کا سب سے بڑا سانپ مانا جاتا ہے عام طور پر اس کی لمبائی 5 سے 6 میٹرہوتی ہیں لیکن کچھ ایناکوڈا تو دس میٹر کی لمبائی تک پہنچ جاتے ہیں اور اب تک جو سب سے لمبا اینا کونڈا کولمبیا میں پکڑا گیا تھا جس کی لمبائی43،11 میٹر تھی اور یہ کئی گنا زیادہ موتا تھا اس کے علاوہ انسان کو نگلنے والے اینا کونڈا کی کہانیوں پر یقین کرنا تو مشکل ہے لیکن سانپوں کا جائزہ لینے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑے سائز کے اینا کوڈا کم از کم ایک بچے کو نگل سکتے ہیں لیکن ان کی تعداد آج بھی نمک کے برابر ہے ۔ جب امریکہ کے ایک سابق صدر نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی انہیں دس میٹر لمبا اینا کونڈا لاکر دے گا تو وہ ا سے پانچ ہزار ڈالر انعام دیں گے لیکن کسی نے دس میٹر لمبا سانپ پیش ہی نہیں کیا ایسا اس لیے ہوا کیونکہ اتنی لمبائی کے اینا کونڈا بہت کم ہوتے ہیں اور مشکل سے ملتے ہیں خواتین و حضرات یہ سانپ تقریباً ساٹھ ملین برس قبل کولمبیا کے رین فارس میں پایا جاتا تھا محقیقین کے مطابق یہ سانپ اتنا چوڑا تھا کہ ایک عام فرد کے شخص کے کولوں تک پہنچ سکتا تھا اور اس کا وزن ایک اندازے کے مطابق ایک ٹن سے زائد تھا۔ واضح رہے کہ سبزایناکوڈا جس کو دنیا کا وزنی ترین سانپ کہا جاتا ہے اس کا وزن ڈھائی سو کلو گرام ہے جب کہ پیتھن جس کو طویل ترین سانپ کہا جاتا ہے اس کی لمبائی 32فٹ ہے اور اس کے بعد اگر ہارر مُنکی کا ذکر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر موجود جانوروں میں اگر کوئی سب سے زیادہ چیخنے چلانے اور شور مچانے کے لیے مشہور ہے وہ جنوبی امریکہ کا بندر ہے ۔ ناظرین گرامی سرخ اور سیاہ رنگ کے ان بندروں کو ان کی خصوصیت کی بنا پر ہارر مونکی یعنی چیخنے چلانے والا بندر کہہ کر پکارا جاتا ہے جنوبی امریکا کے جنگلوں میں پائے جانے والے یہ بندر عام طور پر گروپ کی شکل میں رہتے ہیں ہر گروپ میں دس سے پندرہ بندر شامل ہوتے ہیں اور ہر گروپ کا اپنا ایک مخصوص علاقہ ہوتا ہے اور اگر کسی دوسرے گروپ بندر ان کے علاقے میں گھس جائے تو یہ چیخ چیخ کر اسے اپنے علاقے سے نکال دیتے ہیں ان کے چیخنے چلانے کی آوازیں اس قدر شدید ہوتی ہیں کہ پانچ کلو میٹر تک بآسانی سمجھی جاسکتی ہیں ۔ اس کے بعد تیندوا کا نمبر آتا ہے۔جو ایک بڑا طاقتور کالے دھبوں والا گوشت خور شیر نما جانور ہے جسے جیگوار بھی کہا جاتا ہے دراصل چیتے سے مشابہت رکھنے والا یہ جانور بلی کی نسل فیلی ڈی سے تعلق رکھتا ہے اس کا شمار دنیا کی چار بڑی بلیو میں سے ہوتا ہے یہ وزن میں چیتے سے بھاری ہوتا ہے اور اس کا سر چیتے سے بڑا ہوتا ہے ہے دوستو اس کے علاوہ بھی جنگل میں ایسی مافوق الفطرت مخلوقات پائی جاتی ہیں جن کا تصور انسانی دماغ سے باہر ہیں یہ جنگل اپنے آپ میں ایک مثال ہے اور اس کی سب سے بڑی اور منفرد بات جو زمین پر اس کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے وہ یہ کہ ہمیں زندہ رکھنے کے لیے دنیا کو بیس فیصد آکسیجن اسی جنگل سے حاصل ہو رہی ہے اور شاید اسی وجہ سے اسے لنگز آف ارتھ کا نام دیا جاتا ہے اور کہاں جاتا ہے اس جنگل میں درختوں پر کھناؤ اتنا ہے کہ بارش کا پانی بھی زمین پر گرنے میں دس منٹ لگا دیتا ہے۔



بھارت میں عام انتخابات کا آغاز رواں ماہ کی 11 تاریخ سے ہو رہا ہے، انتخابات سے قبل انتخابی مہم عروج پر ہے، بھارتی ویب سائٹ ریڈیف کے سروے کے مطابق 75 فیصد عوام حکمراں جماعت بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈالیں گے اس لیے مودی سرکار کے لیے یہ الیکشن جیتنا آسان نہ ہوگا۔ ووٹنگ سے محض 2 روز قبل کانگرس کے صدر راہول گاندھی اور وزیر اعظم مودی کے درمیان دو بدو مباحثہ ہوگا۔
ادھر اپوزیشن جماعتیں اور بھارتی عوام
نے سوشل میڈیا پر مودی سرکار کے لیے اپریل فول کے موقع پر مضحکہ خیز ٹوئٹس کرکے صارفین کو زعفران زار کردیا۔ جہاں بھارتی شہری مودی جی کے وعدوں کا ذکر کر کے ایک دوسرے کو بیوقوف بننے پر مبارکباد دیتے رہے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ مودی جی تو کہتے تھے کہ کرپشن ختم ہو جائے گی، بے روزگاروں کے لیے 2 کروڑ نئی نوکریاں ہوں گی اگر آپ سب نے مودی جی کی باتوں پر یقین کر لیا تو اپریل فول بننے پر مبارک ہو۔
دوسری جانب جہاں کانگریس پارٹی باقاعدہ طور پر سوشل میڈیا کو ہتھیار بنا کر مودی حکومت کے خلاف مہم چلا رہی ہے وہیں جلسے جلوس میں بھی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا مقابلہ جاری ہے اور اب تو سب کو وزیراعظم مودی اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے درمیان 9 اپریل کو ہونے والے دو بدو مباحثے کا شدت سے انتظار ہے۔